16

صحیح البخاری حديث نمبر۳ - باب كيف كان بدء الوحى الى رسول الله ﷺ

باب كيف كان بدء الوحى الى رسول الله صلى الله عليه وسلم

(۳) حديث

بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْوَحْىِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لاَ يَرَى رُؤْيَا إِلاَّ جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلاَءُ، وَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ ـ وَهُوَ التَّعَبُّدُ ـ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ، فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا، حَتَّى جَاءَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ اقْرَأْ‏.‏ قَالَ ‏‏ مَا أَنَا بِقَارِئٍ ‏‏‏.‏ قَالَ ‏ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ‏.‏ قُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ‏.‏ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ‏.‏ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ‏.‏ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ ‏{‏اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ‏}‏ ‏‏‏.‏ فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْجُفُ فُؤَادُهُ، فَدَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ رضى الله عنها فَقَالَ ‏‏ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي ‏.‏ فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، فَقَالَ لِخَدِيجَةَ وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ ‏"‏ لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي ‏‏‏.‏ فَقَالَتْ خَدِيجَةُ كَلاَّ وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ‏.‏ فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ابْنَ عَمِّ خَدِيجَةَ ـ وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعِبْرَانِيَّ، فَيَكْتُبُ مِنَ الإِنْجِيلِ بِالْعِبْرَانِيَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ ـ فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ يَا ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ‏.‏ فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ يَا ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَبَرَ مَا رَأَى‏.‏ فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي نَزَّلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى صلى الله عليه وسلم يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا، لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا إِذْ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ أَوَمُخْرِجِيَّ هُمْ ‏‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ، لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهِ إِلاَّ عُودِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا‏.‏ ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ وَفَتَرَ الْوَحْىُ‏.‏

اردو ترجمہ

م المؤمنین عائشہ رضي اللّٰه‎ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ رسول اللّٰه‎ صلی اللّٰه‎ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدا اچھے خوابوں سے ہوئی جو خواب بھی حضور صلی اللّٰه‎ علیہ وسلم دیکھتے اس کی تعبیر صبح روشن کی طرح ظاہر ہوتی پھر آپ کے دل میں خلوت گزینی کی محبت ڈال دی گئی اور آپ غار حرا میں خلوت اختیار فرمانے لگے آپ وہاں متعدد دنوں تک عبادت کرتے رہتے جب تک اپنے اہل کا اشتیاق نہ ہوتا اور اس کے لیے توشہ لے جاتے۔ پھر خدیجہ رضي اللّٰه‎ عنہا کے پاس تشریف لاتے اور اتنا ہی توشہ پھر لے جاتے یہاں تک کی آپ پر وحی آئی جبکہ آپ غار حرا ہی میں تھے اسطرح کی فرشتہ حاضر ہوا اور اُسنے عرض کیا۔ پڑھیےاپ نے فرمایا۔ میں نہیں پڑھتا حضور نے بتایا پھر فرشتہ نے مجھے پکڑ کر طاقت بھر دبوچا پھر مجھے چھوڑ دیا۔ اور کہا پڑھیے تو میں نے کہا میں نہیں پڑھتا تو اس نے مجھے پھر پکڑا دوسری بار طاقت بھر مجھے دبوچا۔ پھر چھوڑ کر کہا۔ پڑھیے تو میں نے کہا میں نہیں پڑھتا۔ حضور صلی اللّٰه ‎علیہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے پکڑا اور تیسری بار مجھے طاقت بھر دبوچا۔ پھر چھوڑ دیا اور کہا اپنے اس پروردگار کے نام کے ساتھ پڑھیے جس نے انسان کو بستہ خون سے پیدا کیا ( سورہ علق کی ابتدائی پانچ آیتیں مالم یعلم تک)۔
اس کے بعد رسول اللّٰه‎ صلی اللّٰه‎ علیہ وسلم ان آیتوں کے ساتھ اس حالت میں لوٹے کہ آپ کا دل دھڑک رہا تھا ( دونوں شانوں اور گردن کا درمیانى حصہ کانپ رہا تھا) اور خدیجہ بنت خویلد رضي اللّٰه‎ عنہا کے پاس پہنچ کر فرمایا مجھے کپڑا اُڑھاؤ مجھے کپڑا اُڑھاؤ تو لوگوں نے حضور صلی اللّٰه‎ علیہ وسلم کو کپڑا اُڑھا دیا یہاں تک کہ آنحضور کی گھبراہٹ دور ہو گئی اُسکے بعد خدیجہ رضي اللّٰه‎ عنہا کو پورا واقعہ بتا کت اُن سے کہا میں اپنی جان کو ڈر گیا ہوں اس پر خدیجہ نے عرض کیا۔ ایسا ہرگز نہ ہوگا ( آپ کو بشارت ہو) بخدا اللّٰه‎ عز وجل آپ کو ہرگز رُسوا نہ کریگا آپ صلہ رحمی فرماتے ہیں اور سچ بولتے ہیں ( اور لوگوں کا بار اٹھاتے ہیں) اور لوگوں کو وہ چیز ( مال، اخلاق وغیرہ) عطا فرماتے ہیں جو انکے پاس نہیں اور مہمان نوازی کرتے ہیں اور راہِ حق میں پیش آنیوالے مصائب میں مدد فرماتے ہیں اس کے بعد حضور صلی اللّٰه‎ علیہ وسلم کو خدیجہ رضي اللّٰه‎ عنہا اپنے ساتھ لیکر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبد العزی بن قصی کے پاس گئیں۔ ورقہ زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہو گئے تھے عبرانی اور (عربی) لکھنا جانتے تھے۔ اور انجیل کو عبرانی اور (عربی) میں لکھا کرتے تھے جتنا اللّٰه‎ عز وجل کو منظور ہوتا اور اس وقت بوڑھے نابینا ہو گئے تھے۔ اُن سے خدیجہ رضي اللّٰه‎ عنہا نے کہا اے مرے چچا کے بیٹے، اپنے برادر زادے کی سنے تو حضور صلی اللّٰه‎ علیہ وسلم سے ورقہ نے پوچھا۔ اے برادرزدے آپ نے کیا دیکھا تو رسول اللّٰه‎ صلی اللّٰه ‎علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا بتایا۔ تبھی ورقہ نے حضور سے کہا یہ وہی فرشتہ ہے جسے اللّٰه‎ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر اتارا تھا کاش کے اُن طاقتور جوان ہوتا۔ کاش کہ اس وقت میں زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو نکالے گی۔ ہے سنکر رسول اللّٰه‎ صلی اللّٰه ‎علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا میری قوم مجھے نکالے گی؟ ورقہ نے کہا جی ہاں! جب بھی کوئی شخص آپ کی طرح شریعت لیکر آیا تو اس سے دشمنی کی گئی، اسے ستایا گیا، اگر مجھے آپ کا زمانہ ملا تو آپ کی بھرپور مدد کروں گا اس کے کچھ ہی دنوں بعد ورقہ کی وفات ہو گئی۔ اور وحی رک گئی۔ پھر ایک عرصہ تک سلسلۂ وحی منقطع رہا جس سے نبی کریم صلی اللّٰه‎ علیہ وسلم کو اتنا غم لاحق ہوا جیسا کی ہمیں خبر پہنچی ہے کی کئی بار پہاڑ کی چوٹیوں پر چڑھتے تاکہ اپنے کو وہاں سے گرا دیں پس جب کبھی چاہا کہ پہاڑ کی بلندی سے اپنے کو گرائیں جبریل علیہ السلام ظاہر ہو جاتے اور عرض کرتے اے محمد! ( صلی اللّٰه‎ علیہ وسلم)آپ بلا شبہ اللّٰه‎ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں اس سے حضور کی بے چینی دور ہو جاتی اور قرار آجاتا پھر لوٹتے۔ پھر وحی کے انقطاع کی مدت دراز ہونے کی وجہ سے ویسا ہی کرتے پھر جب پہاڑ کی بلندی سے گرانا چاہتے۔ تو جبریل علیہ السلام وحی کہتے۔

حوالہ جات

١) نزهة القارى شرح صحيح البخاري، باب كيف كان بدء الوحى الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، حديث نمبر ۳

  شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی

Topics

RevelationWahiBukhari #3Sahih Bukhari 3Hadith

References

Sahih BukhariBukhari 3

Categories

More to Read